منگلورو، 28/دسمبر (ایس او نیوز) منگلورو کے رکن اسمبلی یوٹی قادر نے ریاستی حکومت سے منگلورو فائرنگ کے دوران مہلوک دو افراد کو وزیر اعلیٰ یڈیورپا کی جانب سے اعلان کردہ معاوضہ سے دستبرداری پر ضاحت طلب کی۔
میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے یوٹی قادر نے کہا کہ یڈیورپا نے مہلوکین کو فی کس 10/ لاکھ روپئے ایکس گریشان دینے اعلان کیا تھا مگر دو دن بعد انہوں نے معاوضہ سے دستبرداری اختیار کرلی۔ اب ریاستی حکومت کو وضاحت کرنی چاہئے کہ آخر کس کے مشورہ پر اس نے معاوضہ سے دستبرداری کا فیصلہ کیا، کیوں کہ یہ مہلوکین کے اہل خانہ کی توہین ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق میں بی جے پی حکومت کے دور میں ہی مُلکی میں پولیس فائرنگ میں ہلاک فرد کے ورثہ کو معاوضہ دیا گیا تھا مگر اب حکومت حد سے زیادہ الجھن پیدا کررہی ہے۔ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئے۔ ضلع وزیر کوٹہ سرینواس پجاری کو امن اجلاس طلب کرنا چاہئے۔ انہوں نے دلیل دی کہ این آر سی نافذ نہیں ہونا چاہئے۔ دستور کے مطابق قانون کے لئے دو تہائی ریاستوں کی منظوری درکار ہے مگر کئی ریاستیں این آر سی کو مسترد کررہی ہیں۔ لہٰذا اسے نافذ نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ معاوضہ کے اعلان سے دستبرداری کے لئے وزیر اعلیٰ یڈیورپاکو معذرت خواہی کرنی چاہئے۔
منگلورو میں چرچ حملے کے دوران بھی انہوں نے یہی رویہ اختیار کرتے ہوئے حملے کی مدافعت کی تھی۔ لہٰذا ہم کیس کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سی ٹی روی کے بیان پر ریاستی حکومت کو احتجاج کے دوران نقصانات کی پابجائی کے لئے احتجاجیوں سے معاوضہ لینا چاہئے، قادر نے کہا کہ سی ٹی روی چکمگلورو سے ہیں اور منگلورو کے بارے میں انہیں نہیں بولنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع کے لوگوں کو منگلورو سے متعلق مسائل پر نہیں بولنا چاہئے۔
ایم ایل سی ایوان ڈی سوزا نے الزام عائد کیا کہ حکومت رکن اسمبلی قادر کے خلاف، ان کے حالیہ بیان پر جھوٹے الزام گھڑکر انہیں گرفتار کرنے کی سازش کررہی ہے۔ اس طرح کی انتقامی سیاست بند ہونی چاہئے۔
یوٹی قادر نے کہا کہ منگلورو میں ہوئی پولیس فائرنگ کو سرکاری پشت پناہی حاصل ہے، اس لئے وزیر اعلیٰ چیف منسٹر کی طرف سے اس معاملہ کی سی آئی ڈی اور مجسٹریٹ کے ذریعہ جانچ کروانے کا جو اعلان کیا گیا وہ قابل اعتبار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جیسے ہی اس معاملہ کی جانچ کا اعلان کیا گیا منگلورو پولیس نے تشدد سے جڑی تصاویر اور ویڈیو پیش کی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ پولیس کو اگر حالات بگڑنے کا علم تھا تو اس کے لئے وہ پہلے ہی سے مستعد کیوں نہیں تھی اور حالات کو قابو میں کرنے کے لئے اچانک فائرنگ کرنے کے لئے پولیس کو کس نے ہدایت دی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے تشدد کے متعلق تصاویر اور ویڈیو کا اجرا ایک اور بار منگلورو کی حالت کو بگاڑنے کی سازش کا حصہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت منگلورو میں فائرنگ ہوئی وہ کوپل ضلع کستگی تعلق میں تھے، فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی وہ منگلورو کے لئے روانہ ہوئے لیکن اب پولیس نے جو ایف آئی آر دج کیا ہے اس میں ان کو بھی ملزم بنادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ایف آئی آر درج کرنے کے بعد اس کی نقل بی جے پی کے دفتر کو روانہ کی اور وہاں سے یہ ذرائع ابلاع کو روانہ کیا گیا۔ ان تمام واقعات کو دیکھتے ہوئے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ منگلورو کے تشدد کو ریاستی حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے دائرہ میں یہ سوال بھی شامل ہونا چاہئے کہ اس میں حکومت کا کیا رول رہا تا کہ سچائی سامنے لائی جاسکے۔